مجھ کو رسوا سرِ بازار نہ کروایا کرے
کاش آنسو میری آنکھوں میں ہی رہ جایا کرے
اے ہوا میں نے تو بس اسکا پتہ پوچھا تھا
اب کہانی تو نہ ہر بات کی بن جایا کرے
بس بہت دیکھ لئے خواب سہانے دن کے
اب وہ باتوں کی رفاقت سے نہ بہلایا کرے
اک مصیبت تو نہیںٹوٹی سو اب اس دل سے
جس مصیبت نے گزرنا ہے گزر جایا کرے
جس کے خوابوں کو میں آنکھوں میںسجا کر رکھوں
اس کی خوشبو کبھی مجھ کو تو مہکایا کرے
(نوشی گیلانی)
Showing posts with label N==Noshi Gelani. Show all posts
Showing posts with label N==Noshi Gelani. Show all posts
Friday, 24 May 2013
گریز شب سے سحر سے کلام رکھتے تھے
خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا
خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا
جب چلے تو جنگلوں میں راستہ بنتا گیا
تہمتیں تو خیر قسمت تھیں مگر اس ہجر میں
پہلے آنکھیں بجھ گیئں اور اب چہرہ گیا
ہم وہ محرومِ سفر ہیں دشتِ خواہش میں جنہیں
اک حصارِ درو دیوار میں رکھا گیا
بر ملا سچ کی جہاں تلقین کی جاتی رہی
پھر وہاں جو لوگ سچے تھے انہیں روکا گیا
ہم وہ بے منزل مسافر ہیں جنہیں ہر حال میں
ہم سفر رکھا گیا اور بے نوا رکھا گیا
کھا گیا شوقِ زورِ بزم آرائی اسے
صاحبِ فہم و فراست تھا مگر تنہا گیا
(نوشی گیلانی)
Thursday, 23 May 2013
محبت کی اسیری سے رہائی مانگتے رہنا
غزل-کوئی مجھ کو مرا بھر پور سراپا لا دے-نوشی گیلانی
مجھ کو رسوا سرِ بازار نہ کروایا کرے
نوشی گیلانی لانگ ڈیسٹنس کال ( نظم )
منفرد سا کوئی پیدا وہ فن چاہتی ہے
مسلسل روکتی ہوںاس کو شہر دل میں آنے سے
اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا
Wednesday, 22 May 2013
آئندہ کبھی اس سے محّبت نہیں کی جائے
پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے
اک پشیمان سی حسرت سےمجھے سوچتا ہے
جو میرے حصے میں آئی ہیں وہ اذیتیں بھی شمار کرنا
محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا
جو میرے حصے میں آئی ہیں وہ اذیتیں بھی شمار کرنا
جلائےرکھوں گی صبح تک میں تمھارے رستےمیں اپنی آنکھیں
مگر کہیں ضبط ٹوٹ جائے تو بارشیں بھی شمار کرنا
جو حرف لوحِ وفا پہ لکھے ہوئے ہیں ان کو بھی دیکھ لینا
جو رائیگاں ہو گئیں وہ ساری عبادتیں بھی شمار کرنا
یہ سردیوں کا اداس موسم کہ دھڑکنیں برف ہو گئ ہیں
جب ان کی یخ بستگی پرکھنا، تمازتیں بھی شمار کرنا
تم اپنی مجبوریوں کے قِصے ضرور لکھنا وضاحتوں سے
جو میری آنکھوں میں جَل بجھی ہیں، وہ خواہشیں بھی شمار کرنا
Tuesday, 21 May 2013
تتلیاں پکڑنے کو دور جانا پڑتا ہے
عالم ِ محبت میں
اِک کمال ِ وحشت میں
بے سبب رفاقت میں
دُکھ اُٹھانا پڑتا ہے
تتلیاں پکڑنے کو دور جانا پڑتا ہے
نوشی گیلانی
Saturday, 18 May 2013
ھم نے سوچ رکھا ہے
ھم نے سوچ رکھا ہے
چاہے دل کی ہر خواہش
زندگی کی آنکھوں سے اشک بن کے بہ جائے
چاہے اب مکینوں پر گھر کی ساری دیواریں
چھت سمیت گر جایں
... اور بے مقدر ھم
اس بدن کے ملبے میں خود ہی کیوں نہ دب جایں
تم سے کچھ نہیں کہنا
کیسی نیند تھی اپنی کیسے خواب تھے اپنے
اور اب گلابوں پر
نیند والی آنکھوں پر
نرم خو سے خوابوں پر
کیوں عذاب ٹوٹے ہیں
تم سے کچھ نہیں کہنا
گھر گئے ہیں راتوں میں
بے لباس باتوں میں
اس طرح کی راتوں میں
کب چراغ جلتے ھیں کب عذاب ٹلتے ہیں
اب تو ان عذابوں سے بچ کےبھی نکلنے کا راستہ نہیں جاناں
جس طرح تمہیں سچ کے لازوال لمحوں سے واسطہ نہیں جاناں
ھم نے سوچ رکھا ہےتم سے کچھ نہیں کہنا
(نوشی گیلانی)
Subscribe to:
Comments (Atom)