Showing posts with label N==Noshi Gelani. Show all posts
Showing posts with label N==Noshi Gelani. Show all posts

Friday, 24 May 2013

ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے



ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے
اب اس کی مرضی
کہ وہ خزاں کو بہار لکھ دے
بہار کو انتظار لکھ دے
سفر کی خواہش کو واہموں کے عذاب سے ہمکنار لکھ دے
وفا کے رستوں پہ چلنے والوں
کی قسمتوں میں غبار لکھ دے
ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے
ہوا کی مرضی کہ وصل موسم میں
ہجر کو حصہ دار لکھ دے
محبتوں میں گزرنے والی رُتوں کو ناپائیدار لکھ دے
شجر کو کم سایہ دار لکھ دے
ہوا کو لکھنا سکھانے والوں
ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے ۔۔۔

گریز شب سے سحر سے کلام رکھتے تھے




گریز شب سے سحر سے کلام رکھتے تھے
کبھی وہ دن تھے کہ زلفوں میں شام رکھتے تھے

تمھارے ہاتھ لگے ہیں تو جو کرو سو کرو
وگرنہ تم سے تو ہم سو غلام رکھتے تھے

ہمیں بھی گھیر لیا گھر کے زعم نے تو کھلا
کچھ اور لوگ بھی اس میں کلام رکھتے تھے

یہ اور بات ہے ہمیں دوستی نہ راس آئی
ہوا تھی ساتھ تو خوشبو مقام رکھتے تھے

نجانے کون سی رت سے بچھڑ گئے وہ لوگ
جو اپنے دل میں بہت مقام رکھتے تھے

وہ آتو جاتا کبھی ہم تو اس کے رستوں پر
دیئے تو جلائے ہوئے صبح و شام رکھتے تھے
نوشین گیلانی

خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا



خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا
جب چلے تو جنگلوں میں راستہ بنتا گیا

تہمتیں تو خیر قسمت تھیں مگر اس ہجر میں
پہلے آنکھیں بجھ گیئں اور اب چہرہ گیا

ہم وہ محرومِ سفر ہیں دشتِ خواہش میں جنہیں
اک حصارِ درو دیوار میں رکھا گیا

بر ملا سچ کی جہاں تلقین کی جاتی رہی
پھر وہاں جو لوگ سچے تھے انہیں روکا گیا

ہم وہ بے منزل مسافر ہیں جنہیں ہر حال میں
ہم سفر رکھا گیا اور بے نوا رکھا گیا

کھا گیا شوقِ زورِ بزم آرائی اسے
صاحبِ فہم و فراست تھا مگر تنہا گیا

(نوشی گیلانی)

ھم نے سوچ رکھا ہے





ھم نے سوچ رکھا ہے
چاہے دل کی ہر خواہش 
زندگی کی آنکھوں سے اشک بن کے بہ جائے 
چاہے اب مکینوں پر گھر کی ساری دیواریں 
چھت سمیت گر جایں 
اور بے مقدر ھم 
اس بدن کے ملبے میں خود ہی کیوں نہ دب جایں 
تم سے کچھ نہیں کہنا 

کیسی نیند تھی اپنی کیسے خواب تھے اپنے 
اور اب گلابوں پر 
نیند والی آنکھوں پر 
نرم خو سے خوابوں پر 

کیوں عذاب ٹوٹے ہیں 
تم سے کچھ نہیں کہنا 

گھر گیے ہیں راتوں میں 
بے لباس باتوں میں 
اس طرح کی راتوں میں 
کب چراغ جلتے ھیں کب عذاب ٹلتے ہیں 
اب تو ان عذابوں سے بچ کےبھی نکلنے کا راستہ نہیں جاناں! 
جس طرح تمہیں سچ کے لازوال لمحوں سے واسطہ نہیں جاناں! 
ھم نے سوچ رکھا ہےتم سے کچھ نہیں کہنا

Thursday, 23 May 2013

نوشی گیلانی پچھلے سال کی ڈائری کا آخری ورق - از نوشی گیلانی



کوئی موسم ہو وصل و ہجر کا
ہم یاد رکھتے ہیں
تری باتوں سے اس دل کو
بہت آباد رکھتے ہیں

کبھی دل کے صحیفے پر
تجھے تصویر کرتے ہیں
کبھی پلکوں کی چھاؤں میں
تجھے زنجیر کرتے ہیں
کبھی خوابیدہ شاموں میں
کبھی بارش کی راتوں میں

کوئی موسم ہو وصل و ہجر کا
ہم یاد رکھتے ہیں

تری باتوں سے اس دل کو
بہت آباد رکھتے ہیں

محبت کی اسیری سے رہائی مانگتے رہنا



محبت کی اسیری سے رہائی مانگتے رہنا



محبت کی اسیری سے رہائی مانگتے رہنا
بہت آساں نہیں ہوتا جدائی مانگتے رہنا

ذرا سا عشق کر لینا،ذرا سی آنکھ بھر لینا
عوض اِس کے مگر ساری خدائی مانگتے رہنا

کبھی محروم ہونٹوں پر دعا کا حرف رکھ دینا
کبھی وحشت میں اس کی نا رسائی مانگتے رہنا

وفاؤں کے تسلسل سے محبت روٹھ جاتی ہے
کہانی میں ذرا سی بے وفائی مانگتے رہنا

عجب ہے وحشت ِ جاں بھی کہ عادت ہو گئی دل کی
سکوتِ شام ِ غم سے ہم نوائی مانگتے رہنا

کبھی بچے کا ننھے ہاتھ پر تتلی کے پر رکھنا
کبھی پھر اُس کے رنگوں سے رہائی مانگتے رہنا

(نوشی گیلانی)

غزل-کوئی مجھ کو مرا بھر پور سراپا لا دے-نوشی گیلانی



غزل-کوئی مجھ کو مرا بھر پور سراپا لا دے-نوشی گیلانی

کوئی مجھ کو مرا بھر پور سراپا لا دے
مرے بازو ، مری آنکھیں، مرا چہرہ لا دے

ایسا دریا جو کسی اور سمندر میں گرے
اس سے بہتر ہے کہ مجھ کو مرا صحرا لا دے

کچھ نہیں چاہئے تجھ سے اے مری عمرِ رواں
مرا بچپن، مرے جگنو، مری گڑیا لا دے

جس کی آنکھیں مجھے اندر سے بھی پڑھ سکتی ہوں
کوئی چہرہ تو مرے شہر میں ایسا لا دے

کشتئ جاں تو بھنور میں ہے کئی برسوں سے
اے خدا اب تو ڈبو دے یا کنارا لا دے

نوشی گیلانی

مجھ کو رسوا سرِ بازار نہ کروایا کرے



  1. مجھ کو رسوا سرِ بازار نہ کروایا کرے
    کاش آنسو میری آنکھوں میں ہی رہ جایا کرے

    اے ہوا میں نے تو بس اسکا پتہ پوچھا تھا
    اب کہانی تو نہ ہر بات کی بن جایا کرے

    بس بہت دیکھ لئے خواب سہانے دن کے
    اب وہ باتوں کی رفاقت سے نہ بہلایا کرے

    اک مصیبت تو نہیں‌ٹوٹی سو اب اس دل سے
    جس مصیبت نے گزرنا ہے گزر جایا کرے

    جس کے خوابوں کو میں‌ آنکھوں میں‌سجا کر رکھوں
    اس کی خوشبو کبھی مجھ کو تو مہکایا کرے

    (نوشی گیلانی)

راستوں میں رہے، نہ گھر میں رہے





راستوں میں رہے، نہ گھر میں رہے
عمر بھر حالتِ سفر میں رہے

لفظ سارے چراغ بن جائیں
وصف ایسا مرے ہنر میں

زہر سارا شجر میں آ جائے
اے خدا زندگی ثمر میں رہے

اس لیئے گردشوں کو پالا ہے
کوئی تو حلقہءِ اثر میں رہے

اک زمانا گھروں میں تھا آباد
بے گھری ہم تری نظر میں رہے

(نوشی گیلانی)

نوشی گیلانی لانگ ڈیسٹنس کال ( نظم )





“ بہت برفاف موسم ہے
ہوائیں برف رُت کی شال اوڑھے
بند کمرے میں پناہیں ڈھونڈتیں ہیں
یہ کمرہ
جس میں ہیٹر چل رہا ہے اور
بدن سارے کا سارا برف کی سل بن گیا ہے
بدن کی حدتیں اب اک
غبار آلود خواہش کی طرح گم ہو رہیں ہیں‌
مگر اس منجمد شب میں
جہاں پر ذہن سُن ہو
اور پوریں بےحس و حرکت
وہاں پر سانس لینے اور لہو کو گرم رکھنے کی یہی صورت نظر آئی
کہ تم سے فون پر بات کروں
باتوں ہی باتوں‌ میں‌
تمہارے عارض و رخسار و لب اور برف پگھلاتی ہوئی
آنکھوں‌کو چھولوں اور تمہیں‌ کہہ دوں
ذرا تم فون پر ہونٹوں‌ کو رکھ دو ۔۔۔ ۔ میں‌ بھی رکھتا ہوں‌
تم اپنی گرم سانسوں سے مری سانسوں‌کو پگھلاؤ
تصور میں مجھے چھو لو ۔۔۔ ۔ میرے دل میں اُتر آؤ
میں تنہائی کے جس موسم کی یخ بستہ رتوں میں مبتلا ہوں
اس گھڑی ان کو
تمہارے عارض و رخسار کی حدت ہی پگھلائے تو پگھلائے
وگرنہ پھر خدا حافظ “

منفرد سا کوئی پیدا وہ فن چاہتی ہے





منفرد سا کوئی پیدا وہ فن چاہتی ہے
زندگی ایک نیا طرزِ سخن چاہتی ہے
رُوح کے بے سرو سامانی سے باہر آ کر
شاعری اپنے لیے ایک بدن چاہتی ہے
ہر طرف کتنے ہی پھُولوں کی بہاریں ہیں یہاں
پر طبیعت وُہی خوشبوےُ وطن چاہتی ہے
سانس لینے کو بس اِک تازہ ہَوا کا جھونکا
زندگی وہ کہاں سرو و سمن چاہتی ہے
دُور جا کر در و دیوار کی رونق سے کہیں
ایک خاموش سا اُجڑا ہُوا بن چاہتی ہے

نوشی گیلانی     

مسلسل روکتی ہوںاس کو شہر دل میں آنے سے



مسلسل روکتی ہوںاس کو شہر دل میں آنے سے
مگر وہ کوہ کن رکتا نہیں دیوار ڈھانے سے
بھلا کیا دکھ کے آنگن میں سلگتی لڑکیاں جانے
کہیں چھپتے ہیں آنسو آنچلوں میں منہ چھپانے سے
ابھی تو فصل تازہ ہے ہمارے حرف و معنی کی
ابھی ڈرتے نہیں ہم موسموں کے آنے جانے سے
ابھی تو عشق میں آنکھیں بجھی ہیں دل سلامت ہے
زمینیں بانجھ ہوتی ہیں کبھی فصلیں جلانے سے ؟
تجھے تنہا محبت کا یہ دریا پار کرنا ہے
ندامت ہوگی اس کے حوصلوں کو آزمانے سے
ہمیں کس ظرف کے کردار کے قصے سناتا ہے
تجھے اے شہر ہم بھی جانتے ہیں اک زمانے سے
تجھے بھی ضبط غم شوق نے پتھر بنا ڈالا
تجھے اے دل بہت روکا تھا رسم و راہ نبھانے سے
نوشی گیلانی

اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا




اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا
اس دل کی جھیل سی آنکھوں میں اک خواب بہت برباد ہوا

یہ ہجر ہوا بھی دشمن ہے اس نام کے سارے رنگوں کی
وہ نام جو میرے ہونٹوں پر خوشبو کی طرح آباد ہوا

اس شہر میں کتنے چہرے تھے کچھ یاد نہیں سب بھول گئے
اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا

وہ اپنے گاؤں کی گلیاں تھیں دل جن میں ناچتا گاتا تھا
اب اس سے فرق نہیں پڑتا ناشاد ہوا یا شاد ہوا

بے نام ستائش رہتی تھی ان گہری سانولی آنکھوں میں
ایسا تو کبھی سوچا بھی نہ تھا دل کتنا بے داد ہوا     

Wednesday, 22 May 2013

آئندہ کبھی اس سے محّبت نہیں کی جائے






  1. آئندہ کبھی اس سے محّبت نہیں کی جائے
    کی جائے تو پھر اس کی شکایت نہیں کی جائے

    اس معرکۂ عشق میں اے اہلِ محبت
    آساں ہے عداوت پہ عداوت نہیں کی جائے

    یہ دل کہ اُسی زُود فراموشی پہ مائل
    اور ذہن بضد اس سے محبت نہیں کی جائے

    ہم اہلِ سخن ہیں تو روایت کے مطابق
    مصلوب کیا جائے رعایت نہیں کی جائے

    یہ لوگ تماشا ہیں تو پھر ان سے جنوں میں
    کوئی بھی بیاں دل کی حکایت نہیں کی جائے

پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے




پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے
وہ جس کی یاد سے دل کو کنارا ہی نہیں ہے

محّبت کھیل ایسا تو نہیں ہم لَوٹ جائیں
کہ اِس میں جیت بھی ہو گی خسارا ہی نہیں ہے

کبھی وہ جگنوؤں کو مُٹھیوں میں قید کرنا
مگر اب تو ہمیں یہ سب گوارا ہی نہیں ہے

اب اس کے خال و خد کا ذکر کیا کرتے کِسی سے
کہ ہم پر آج تک وہ آشکارا ہی نہیں ہے

یہ خواہش تھی کہ ہم کُچھ دُور تک تو ساتھ چلتے
ستاروں کا مگر کوئی اِشارا ہی نہیں ہے

بہت سے زخم کھانے دل نے آخر طے کیا ہے
تمھارے شہر میں اپنا گزارا ہی نہیں ہے     

اک پشیمان سی حسرت سےمجھے سوچتا ہے



  1. اک پشیمان سی حسرت سےمجھے سوچتا ہے
    اب وہی شہر محبت سے مجھے سوچتا ہے

    میں تو محدود سے لمحوں میں ملی تھی اس سے
    پھر بھی وہ کتنی وضاحت سے مجھے سوچتا ہے

    جس نے سوچا ہی نہ تھا ہجر کا ممکن ہونا
    دکھ میں ڈوبی ہوئی حیرت سے مجھے سوچتا ہے

    میں تو مر جاؤں اگر سوچتے لگ جاؤں اسے
    اور وہ کتنی سہولت سے مجھے سوچتا ہے

    گرچہ اب ترکِ مراسم کو بہت دیر ہوئی
    اب بھی وہ میری اجازت سے مجھے سوچتا ہے

    کتنا خوش فہم ہے وہ شخص کہ ہر موسم میں
    اک نئے رخ نئی صورت سے مجھے سوچتا ہے

جو میرے حصے میں آئی ہیں وہ اذیتیں بھی شمار کرنا


محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا

جو میرے حصے میں آئی ہیں وہ اذیتیں بھی شمار کرنا

جلائےرکھوں گی صبح تک میں تمھارے رستےمیں اپنی آنکھیں

مگر کہیں ضبط ٹوٹ جائے تو بارشیں بھی شمار کرنا

جو حرف لوحِ وفا پہ لکھے ہوئے ہیں ان کو بھی دیکھ لینا

جو رائیگاں ہو گئیں وہ ساری عبادتیں بھی شمار کرنا

یہ سردیوں کا اداس موسم کہ دھڑکنیں برف ہو گئ ہیں

جب ان کی یخ بستگی پرکھنا، تمازتیں بھی شمار کرنا

تم اپنی مجبوریوں کے قِصے ضرور لکھنا وضاحتوں سے

جو میری آنکھوں میں جَل بجھی ہیں، وہ خواہشیں بھی شمار کرنا

Tuesday, 21 May 2013

تتلیاں پکڑنے کو دور جانا پڑتا ہے




عالم ِ محبت میں
اِک کمال ِ وحشت میں
بے سبب رفاقت میں
دُکھ اُٹھانا پڑتا ہے
تتلیاں پکڑنے کو دور جانا پڑتا ہے

نوشی گیلانی 

Saturday, 18 May 2013

ھم نے سوچ رکھا ہے



ھم نے سوچ رکھا ہے
چاہے دل کی ہر خواہش 
زندگی کی آنکھوں سے اشک بن کے بہ جائے 
چاہے اب مکینوں پر گھر کی ساری دیواریں 
چھت سمیت گر جایں 
... اور بے مقدر ھم 
اس بدن کے ملبے میں خود ہی کیوں نہ دب جایں 
تم سے کچھ نہیں کہنا 

کیسی نیند تھی اپنی کیسے خواب تھے اپنے 
اور اب گلابوں پر 
نیند والی آنکھوں پر 
نرم خو سے خوابوں پر 

کیوں عذاب ٹوٹے ہیں 
تم سے کچھ نہیں کہنا 

گھر گئے ہیں راتوں میں 
بے لباس باتوں میں 
اس طرح کی راتوں میں 
کب چراغ جلتے ھیں کب عذاب ٹلتے ہیں 
اب تو ان عذابوں سے بچ کےبھی نکلنے کا راستہ نہیں جاناں
جس طرح تمہیں سچ کے لازوال لمحوں سے واسطہ نہیں جاناں
ھم نے سوچ رکھا ہےتم سے کچھ نہیں کہنا

(نوشی گیلانی)
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...