Friday, 24 May 2013

خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا



خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا
جب چلے تو جنگلوں میں راستہ بنتا گیا

تہمتیں تو خیر قسمت تھیں مگر اس ہجر میں
پہلے آنکھیں بجھ گیئں اور اب چہرہ گیا

ہم وہ محرومِ سفر ہیں دشتِ خواہش میں جنہیں
اک حصارِ درو دیوار میں رکھا گیا

بر ملا سچ کی جہاں تلقین کی جاتی رہی
پھر وہاں جو لوگ سچے تھے انہیں روکا گیا

ہم وہ بے منزل مسافر ہیں جنہیں ہر حال میں
ہم سفر رکھا گیا اور بے نوا رکھا گیا

کھا گیا شوقِ زورِ بزم آرائی اسے
صاحبِ فہم و فراست تھا مگر تنہا گیا

(نوشی گیلانی)

No comments:

Post a Comment

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...