Showing posts with label **Urdu-Auliya-i-karam Aqwaal **. Show all posts
Showing posts with label **Urdu-Auliya-i-karam Aqwaal **. Show all posts

Thursday, 1 August 2013

" صدقہ اور اخلاصِ نیت.. "

ﮨﯿﺜﻢ ﺑﻦ ﻋﺪﯼ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﯿﻦ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﺎ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﮟ

سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللہ علیہ کے مصاحبین نے انہیں یہ شکایت لگائی کہ بادشاہ سلامت ایاز کی ایک الماری

سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللہ علیہ کے مصاحبین نے انہیں یہ شکایت لگائی کہ بادشاہ سلامت ایاز کی ایک الماری ہے یہ اس الماری کو تالا لگا کر رکھتا ہے وہ روزانہ اس الماری کو کھول کر دیکھتا ہے اور کسی دوسرے بندے کو دیکھنے نہیں دیتا ہمارا خیال ہے کہ اس نے آپ کے خزانے کے قیمتی ہیرے اور موتی اس کے اندر چھپا کر رکھے ہوئے ہیں آپ ذرا اس کی تلاشی لیجیے جب بادشاہ کو یہ شکایت لگائی گئی تو بادشاہ سلامت نے اسی وقت ایاز کو بلوایا اور کہا ایاز کیا تمہاری الماری ہے اس نے کہا جی ہے پوچھا کیا اسے تالا لگا کر رکھتے ہو اس نے کہا جی ہاں پوچھا کسی اور کو دیکھنے دیتے ہو عرض کیا جی نہیں پھر پوچھا کیا تم خود اسے روزانہ دیکھتے ہو عرض کیا جی ہاں پھر بادشاہ نے فرمایا کہ چابی لاؤ ایاز نے چابی دے دی بادشاہ نے کسی بندے کو بھیجا کہ جاؤ اس الماری میں جو کچھ موجود ہے وہ لا کر یہاں سب کے سامنے پیش کر دو وہ حاسدین بڑے خوش ہوئے کہ دیکھو اب اس کی حقیقت کھل جائے گی جب اس کی چوری کا سامان سامنے آئے گا تو بادشاہ ابھی اس کو یہاں سے دھکے دے کر نکال دے گا اللہ کی شان کہ جب وہ بندہ واپس آیا تو اس نے آکر بادشاہ کے سامنے تین چیزیں رکھ دیں ایک پرانا جوتا اور پرانا تہبند اور ایک پرانا کرتا بادشاہ نے پوچھا اس میں کچھ اور نہیں تھا اس نے کہا جی نہیں یہی کچھ تھا بادشاہ نے کہا ایاز اس میں تو کوئی ایسی قیمتی چیز نہیں ہے جسے تم تالے میں بند کر کے رکھو اور کسی دوسرے کو دیکھنے بھی نہ دو اور کوئی ایسی چیز بھی نہیں کہ جسے تم روزانہ آکر دیکھو کرو کہ ٹھیک ہے یا نہیں اس نے کہا بادشاہ سلامت بات یہ ہے کہ میرے نزدیک یہ بہت قیمتی ہیں بادشاہ نے پوچھا بھئی وہ کیسے اس نے کہا بادشاہ سلامت وہ اس لیے کہ جب میں آپ کے دربار میں پہلی مرتبہ آیا تھا تو یہ جوتے پہنے ہوئے تھے یہ تہبند باندھا ہوا تھا اور کرتا پہنا ہوا تھا میں نے ان تینوں چیزوں کو محفوظ کر لیا تھا اب میں روزانہ الماری کھول کر ان کو دیکھتا ہوں اور اپنے نفس کو سمجھاتا ہوں کہ ایاز تمہاری اوقات یہی تھی تم اپنی نہ بھولنا اب تمہیں جو کچھ ملا ہے یہ سب تمہاری بادشاہ کا تم پر احسان ہے لہٰزا تم اپنے بادشاہ سلامت کا احسان سامنے رکھنا بادشاہ سلامت اس طرح مجھے اپنی اوقات یاد رہتی ہے کہ میں کیا تھا اور مجھے بادشاہ کے قرب نے کیا کیا عزتیں بخشیں

Sunday, 28 July 2013

خدا تعالیٰ حقیقتاً قضا و قدر کا مالک ہے

حضرت عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ
ایک مرتبہ آپ فراغت حج کے بعد بیت اللہ میں سو گئے اور خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے باہم باتیں کر رہے ہیں ۔
اور ایک نے دوسرے سے سوال کیا کہ اس سال کتنے لوگ حج میں شریک ہوئے اور کتنے افراد کا حج قبول ہوا ۔

دوسرے نے جواب دیا کہ چھ لاکھ لوگوں نے فریضہ حج ادا کیا لیکن ایک فرد کا بھی حج قبول نہیں ہوا ۔

لیکن دمشق کا ایک موچی جو حج میں تو شریک نہیں ہوا
لیکن خدا نے
اس کا حج قبول فرما کے اس کے طفیل سب کا حج قبول کر لیا ۔

یہ خواب دیکھ کر بیداری کے بعد موچی سے ملاقات کرنے کے لیئے دمشق پہنچے موچی نے اپنا واقعہ کچھ اس طرح بیان کیا کہ بہت عرصے سے میرے قلب میں حج کی تمنا تھی اور میں نے اس نیت سے تین سو درہم بھی جمع کر لیے تھے ۔

لیکن ایک دن پڑوسی کے ہاں سے کھانا پکنے کی خوشبو آئی تو میری بیوی نے کہا کہ اس کے ہاں سے تم بھی مانگ لاؤ تا کہ ہم بھی کھالیں

چنانچہ میں نے اس پڑوسی سے جا کر کہا کہ آج آپ نے جو کچھ پکایا ہے ہمیں بھی عنایت کریں ، لیکن اس نے کہا کہ وہ کھانا آپ کے کھانے کا نہیں ہے کیونکہ سات روز سے میں اور میرے اہل و عیال فاقہ کشی میں مبتلا تھے تو میں نے مردہ گدھے کا گوشت پکا لیا ہے ۔

یہ سن کر میں خوفِ خداوندی سے لرز گیا اور اپنی تمام جمع شدہ رقم اس کے حوالے کر کے یہ تصور کر لیا کہ ایک مسلمان کی امداد میرے حج کے برابر ہے حضرت عبد اللہ نے یہ واقعہ سن کر فرمایا کہ فرشتوں نے خواب میں واقعی سچی بات کہی تھی اور خدا تعالیٰ حقیقتاً قضا و قدر کا مالک ہے ۔

از حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اللہ علیہ تذکرۃ الاولیاء صفحہ 123

روزہ دار اور ڈاکو


Monday, 15 July 2013

درویش کون ؟

Sunday, 23 June 2013

ایک مرتبہ ایک نہایت ہی حسین وجمیل اور پاکباز عورت

ایک مرتبہ ایک نہایت ہی حسین وجمیل اور پاکباز عورت حضرت بایزید رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اُن سے شکایت کی کہ میرا خاوند دوسری شادی کرنا چاھتا ھے - اسلیے آپ مجھے ایسا تعویذ دیں یا اس طرح دُ عا مانگیں کہ وہ اپنے اس ارادے سےباز آجائے
حضرت نے فرمایا-"بہن! جب اللہ تعالی نے مرد کو استطاعت ہونے پر چار تک بیویاں کرنے کی اجازت دی ھے تو پھر میں کون ہوتا ھوں جو قانون خُداوندی میں در آؤں اور حکم خُداوندی کی خلاف ورزی کا ذریعہ بنوں "
اس پر وہ خاتون بہت دل برداشتہ ہوئی اور حضرت کی بارگاہ میں عرض کیا "حضرت! میں پردہ میں ھوں اور شریعت اجازت نہیں دیتی کہ میں آپ پر اپنا چہرہ ظاہر کروں ، اگر شریعت اجازت دیتی اور میں آپ پراپنا حسن و جمال ظاہر کرسکتی پھر آپ فیصلہ فرماتے کہ آیا میرے خاوند کو سوکن لانے کا حق حاصل ھے یا نہیں ؟
یہ جواب سُننا تھا کہ حضرت تڑپ اُٹھے اور بے ہوش ھوگئے - ہوش آنے پر فرمایا -دیکھو! یہ ایک خاتون جس کا حسن وجمال قطعی فانی اور محض عطیہ خداوندی ہے ، اپنے حسن وجمال پراس قدر نازاں ہے کہ اس پر سوکن لانا پسند نہیں کرتی اور اپنی توہین سمجھتی ھے
تو وہ رب ذوالجلال اور خالق کائنات جو حسن وجمال کا خالق اور ساری کائنات کا خالق ھے کیونکر گوارہ کرسکتا ھے کہ مخلوق کسی کو اسکا شریک ٹہرائے-

انھیں خدمتوں کی برکت سے یہ مراتب مجھے حاصل

حضرت بایزید بسطامی رحمتہ الله علیہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے جتنے بھی مراتب حاصل ہوئے سب والدہ کی اطاعت سے حاصل ہوئے -ایک مرتبہ میری والدہ نے رات کو پانی مانگا لیکن اتفاق سے اس رات گھر میں پانی نہیں تھا -چنانچہ میں گھڑا لے کر نہر سے پانی لایا - میری آمد و رفت کی تاخیر کی واضح سے والدہ کو نیند آ گئی اور میں رات بھر پانی لیے کھڑا رہا - حتی ٰ کہ شدید سردی کی وجہ سے وہ پانی پیالے میں منجمد ہوگیا اور جب والدہ کی بیداری کے بعد میں نے انھیں پانی پیش کیا تو انھوں نے فرمایا تم نے پانی رکھ دیا ہوتا اتنی دیر کھڑے رہنے کی کیا ضرورت تھی - میں نے عرض کیا محض اسلئے کھڑا رہا کہ مبادا آپ کہیں بیدار ہو کر پانی نہ پی پائیں اور آپ کو تکلیف پہنچے - یہ سن کر انھوں نے مجھے دعائیں دیں..
اسی طرح ایک رات والدہ نے فرمایا کہدروازے کا ایک پٹ کھول دو - لیکن میں رات بھر اس پریشانی میں کھڑا رہا کہ نہ معلوم داہنا پٹ کھولوں یا بایاں - کیونکہ اگر ان کی مرضی کےخلاف پٹ کھل گیا تو حکم عدولی میں شمار ہوگا - چانچہ انھیں خدمتوں کی برکت سے یہ مراتب مجھے حاصل ہوئے -
- شیخ فرید الدین عطار - تذکرہ اولیاء











Wednesday, 29 May 2013

جو شخص دائمی فرض ادا نھیں کرتا،



حدیث قدسی میں فرمانِ الھیٰ ھے:۔ "جب کوئی میرے ذکر میں مشغول ھوتاھے۔تو میں اس کا ھم مجلس بن جاتاھوں ۔'' اجرو ثواب کے لحاظ سے فقہ کاایک مسئلہ سیکھنا ایک سال کی عبادت سے افضل ھے اور ایک دم کے لئے ذکر "اللہُ" میں مشغول رھنا ھزارمسائل فقہ سیکھنے سے افضل ھے۔ مسائل فقہ کا علم اسلام کی بنیاد ھے ۔تلاوتِ قرآن اور جملہ ظاھری عبادات اگر چُھوٹ جائیں تو ان کی قضاءممکن ھے۔لیکن دم کی قضاء ممکن نھیں ۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کافرمان ھے۔"جو شخص دائمی فرض ادا نھیں کرتا، اللہ تعالیٰ اُس کےوقتی فرض کو قبول نھیں کرتا۔" "سانس گنتی کے ھیں اور جو سانس ذکراللہ کے بغیر گزرےوہ مردہ ھے"۔

حضرت سلطان باھوؒ عین الفقر ص 13

Saturday, 25 May 2013

ﺷﻤﻌﻮﻥ ﻧﺎﻣﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺁﺗﺶ


ﺷﻤﻌﻮﻥ ﻧﺎﻣﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺁﺗﺶ
ﭘﺮﺳﺖ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ
ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﺎ ﭘﮍﻭﺳﯽ
ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺳﺘﺮ ﺑﺮﺱ ﺗﮏ ﺁﺗﺶ
ﭘﺮﺳﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﺭﮨﺎ۔
... ﺁﺧﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ۔
ﮐﺌﯽ ﺭﻭﺯ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ۔ ﻋﻤﺪﮦ
ﻋﻼﺝ ﺍﻭﺭ ﺗﺪﺍﺑﯿﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮯ
ﺻﺤﺖ ﯾﺎﺏ ﻧﮧ ﮐﺮﺳﮑﯿﮟ
ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺣﺴﻦ
ﺑﺼﺮﯼ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﯿﺎﺩﺕ ﮐﻮ
ﮔﺌﮯ۔ ﻋﯿﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﻧﮯ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﯽ ۔ ﺗﻢ ﻧﮯ
ﺍﯾﮏ ﻋﻤﺮ ﮐﻔﺮﻭﺷﺮﮎ ﻣﯿﮟ
ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯼ ﮨﮯ۔ ﺍﺏ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ
ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺳﻼﻡ ﻟﮯ ﺁﺋﻮ۔
ﺷﺎﯾﺪ ﺧﺪﺍ ﺗﻢ ﭘﺮ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ
ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﺷﻤﻌﻮﻥ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺧﻮﺍﺟﮧ
ﺻﺎﺣﺐ!ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ
ﮐﯽ ﺗﯿﻦ ﻋﺎﺩﺍﺕ ﺳﺨﺖ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪ
ﮨﯿﮟ۔
ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ
ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺭﮨﺎﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ
ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ
ﮐﺸﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﯽ۔
ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ
ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﻭﮦ ﮐﻮﻧﺴﯽ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ
ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ
ﺗﻮ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﻣﻨﮑﺮ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﻝ ﯾﮧ
ﮐﮧ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺑﺮﺍ
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ،ﺟﺐ ﺷﺐ ﻭ ﺭﻭﺯ ﺩﻧﯿﺎ
ﮐﮯ ﻣﺘﻼﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﻮﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺩﻭﺋﻢ ﻣﻮﺕ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺎﻣﻞ
ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺕ
ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻤﻠﯽ ﺳﺎﻣﺎﻥ
ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔
ﺳﻮﻡ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ
ﺧﺪﺍ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ
ﻣﺘﻤﻨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﻭﮦ
ﮐﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺧﺪﺍ
ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﺭﺣﻤﺘﮧ
ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺑﮍﯼ ﺍﭼﮭﯽ
ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺣﻖ ﺷﻨﺎﺳﯽ
ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻠﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ
ﺑﺘﺎ ﮐﮧ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺻﺮﻑ ﺍﻥ
ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺳﺘﺮ
ﺑﺮﺱ ﺁﺗﺶ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﻣﯿﮟ
ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮ ﺩﯾﺌﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﯾﮏ
ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ
ﮐﻢ ﺍﺯﮐﻢ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻭﺣﺪﺍﻧﯿﺖ ﭘﺮ
ﯾﻘﯿﻦ ﺗﻮ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ
ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﻗﺮﺏ ﺗﻮ
ﻣﻠﮯ ﮔﺎ۔ ﺗﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ
ﻧﮯ ﺁﺗﺶ ﮐﻮ ﭘﻮﺟﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺁﮔﮯ
ﺟﺎ ﮐﺮ ﺁﮔﮯ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮨﮯ
ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﺗﺶ
ﭘﺮﺳﺘﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺗﻮ
ﮨﻤﯿﮟ ﺁﮒ ﺟﻼﺩﮮ ﮔﯽ؟ ﯾﮧ
ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺻﺎﺣﺐ
ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﯾﮏ ﺁﮒ ﺟﻼﺋﯽ
ﺟﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺷﻤﻌﻮﻥ
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺁﮒ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ
ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔
ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﮒ ﺁﺗﺶ
ﭘﺮﺳﺖ ﮐﻮ ﺟﻼﺗﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ
ﺧﺪﺍ ﭘﺮﺳﺖ ﮐﻮ؟ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ
ﮐﺮ ﺟﻠﺘﯽ ﺁﮒ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺟﮧ
ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ
ﻣﮕﺮ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﺳﮯ ﺁﮒ ﻧﮯ
ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺿﺮﺭ ﻧﮧ
ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ۔
ﺷﻤﻌﻮﻥ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺭﻭﺡ ﭘﺮﻭﺭ
ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ
ﮨﺪﺍﯾﺖ ﺍﻟٰﮩﯽ ﺳﮯ ﻣﻨﻮﺭ ﮨﻮﮔﯿﺎ
ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺭﺍً ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ
ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﻮﮌ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ۔
ﺣﻀﺮﺕ!ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﮐﻠﻤﮧ
ﭘﮍﮬﺎﺋﯿﮯ۔ ﮐﻔﺮ ﻭ ﺷﺮﮎ ﻣﯿﮟ
ﺍﯾﮏ ﻋﻤﺮ ﺑﺴﺮ ﮐﯽ ﮨﮯ۔
ﭼﻨﺪﺳﺎﻧﺲ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﯿﮟ،
ﮐﯿﺎ ﺧﺒﺮ ﯾﮧ ﮔﮭﮍﯼ ﭘﮭﺮ ﻧﺼﯿﺐ
ﮨﻮ ﮐﮧ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺍﺱ
ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮧ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﮐﯿﺎ
ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ
ﻟﮯ ﺁﺋﻮﮞ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ
ﮔﺎﺭﻧﭩﯽ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ
ﻣﯿﮟ ﻋﺬﺍﺏ ﺍﻟٰﮩﯽ ﺳﮯ ﺑﭻ
ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﺎ۔
ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ
ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ
ﺗﻢ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﻮ ﺗﻮ
ﺧﺪﺍ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭ ﺑﺨﺸﺶ ﺩﮮ
ﮔﺎ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﻧﺎﻣﮧ
ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺧﻮﺍﺟﮧ
ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ
ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﻋﺎﺩﻝ
ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﺩﺳﺘﺨﻂ ﺑﻄﻮﺭ
ﮔﻮﺍﮦ ﮐﮯ ﺭﻗﻢﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﭘﮭﺮ
ﺷﻤﻌﻮﻥ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ
ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﺍﺩﮬﺮ ﻭﮦ
ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﺍ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺱ
ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﻗﻔﺲ ﻋﻨﺼﺮﯼ
ﺳﮯ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﺮﮔﺌﯽ۔
ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﺱ
ﮐﻮ ﻏﺴﻞ ﺩﯾﺎ،ﮐﻔﻦ ﭘﮩﻨﺎﯾﺎ
ﺍﻭﺭ ﻋﮩﺪ ﻧﺎﻣﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ
ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ
ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻗﺒﺮ
ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﯾﺎ۔
ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺻﺎﺣﺐ
ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﭘﻞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮭﯽ
ﻧﯿﻨﺪ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ۔ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ
ﻧﻮﺍﻓﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ
ﺁﮔﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ، ﺍﮮ ﺭﺏ
ﮐﺮﯾﻢ!ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺍﯾﮏ
ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﮟ
ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺑﺨﺸﺶ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ
ﺿﻤﺎﻧﺖ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﮟ
ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻋﻮﯼٰ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﺏ ﺗﻮ
ﻣﯿﺮﯼ ﻻﺝ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﻭﺭﻧﮧ
ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺭﻭﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ
ﺷﺨﺺ ﮐﻮﮐﯿﺎ ﻣﻨﮧ
ﺩﮐﮭﺎﺋﻮﮞ ﮔﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ
ﺿﻤﺎﻧﺖ ﭘﺮ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ۔ ﺍﺳﯽ
ﺑﮯ ﮐﻠﯽ ﻣﯿﮟ
ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ
ﻟﮓ ﮔﺌﯽ، ﺧﻮﺍﺏ ﻧﻈﺮ
ﺁﯾﺎ۔ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ
ﺷﻤﻌﻮﻥ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺗﺎﺝ
ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﮑﻠﻒ ﻟﺒﺎﺱ
ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﺟﻨﺖ ﮐﮯ
ﺑﺎﻏﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ
ﮨﮯ۔ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮮ ﺷﻤﻌﻮﻥ ﺳﻨﺎ
ﺗﯿﺮﺍ ﮐﯿﺎ ﺣﺎﻝ ﮨﮯ؟
ﺷﻤﻌﻮﻥ ﺑﻮﻻ ﺍﮮ ﺣﺴﻦ
ﺑﺼﺮﯼ!ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ
ﻭﮦ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﻭﺭ ﺯﺑﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ
ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮐﮧ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ
ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯿﺎﮞ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ
ﻣﻌﺎﻓﯽ ﺩﯼ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺸﺖ ﮐﮯ ﻣﺤﻼﺕ
ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭﺍ، ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ
ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﻧﻌﺎﻣﺎﺕ ﺩﯾﺌﮯ
ﮐﮧ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﺎﻥ
ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﺎ۔
ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﮦ ﻋﮩﺪ ﻧﺎﻣﮧ
ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻦ
ﺑﺼﺮﯼ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﺩﯾﺎ
ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺍﺏ ﺁﭖ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ
ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﺮ
ﺿﻤﺎﻧﺖ ﺳﮯ ﺳﺒﮑﺪﻭﺵ ﮨﯿﮟ۔
ﺟﺐ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﮐﯽ
ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﯽ ﺗﻮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ
ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﻧﺎﻣﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ
ﮨﺎﺗﮫ
ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺁﭖ ﺷﻤﻌﻮﻥ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻗﺒﺮ
ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺁﭖ ﻓﻮﺭﺍً ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ
ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭﻋﺮﺽ ﮐﯽ ﺍﮮ
ﻣﺎﻟﮏ ﮐﻮﻥ ﻭ ﻣﮑﺎﻥ!
ﺗﯿﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ
ﺍﻭﺭ ﻏﻔﻮﺭ ﺍﻟﺮﺣﯿﻢ ﮨﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﺁﺗﺶ ﭘﺮﺳﺖ ﮐﻮ ﺟﺲ ﻧﮯ
ﺳﺘﺮ ﺳﺎﻝ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﮐﯽ
ﺍﻭﺭ ﻓﻘﻂ
ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ، ﺗﻮ
ﻧﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ
ﺑﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ
ﮐﻮ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺑﺨﺸﺶ ﺩﯾﺎ
ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﻠﻨﺪﻭﺑﺎﻻ
ﺩﺭﺟﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ۔

Thursday, 23 May 2013

ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ

ﺟﻨﯿﺪِ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﺭﺡ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮐﯿﺎ:

ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ
ﺑﭩﮭﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ۔ ﺟﺲ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ
ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮ ، ﮨﺎﺗﮫ ﺑﮍﮬﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ
ﻟﯿﺘﮯ ۔ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ
ﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﮩﯿﮟ۔

Tuesday, 21 May 2013

لا الہ الا اللہ کا ورد کرنے والا بلندیوں پر گامزن ہوجاتا ہے۔

مولانا ﺭﻭﻣﯽ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ فرماتے ﮨﯿﮟ ،

میں تم سب کو پوشیدہ اور کھلے عام ہر حال میں اللہ سے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں ، نیز کم کھانے اور کم سونے اور کم بولنے کی تاکید کرتا ہوں ، نیز معاصی اور گناہوں سے اجتناب اور روزے پر مواظبت اور قیام شب پر مداومت اور ہمیشہ شہوات کے ترک اور ہر شخص کی جفا و زیادتی کے تحمل کی نصیحت کرتا ہوں ، نیز عوام اور بیوقوفوں کے ساتھ بیٹھنے سے اجتناب اور صالحین اور شریفوں کے ساتھ بیٹھنے کی وصیت کرتا ہوں ۔
یقیناً بہترین آدمی وہ ہے جو لوگوں کے لئے نفع بخش ہو اور عمدہ ترین کلام وہ ہے جو لفظ کے اعتبار سے تو کم ہو مگر معنیٰ کے اعتبار سے زیادہ ہو ، حمد کا مستحق تو بس اللہ تعالیٰ ہی ہے اور بیشک
لا الہ الا اللہ کا ورد کرنے والا بلندیوں پر گامزن ہوجاتا ہے۔

ﺧﺪﺍ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﮯ۔

حضرت ابو یحیی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں.

"ﺧﺪﺍ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﻮ
ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ
ﺑﻨﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺯﻧﺪﮔﯽ
ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻣﻮﮌ ﭘﺮ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻣﻌﯿﺖ ﮐﺎ ﺯﻧﺪﮦ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔

حجام سے سیکھا اخلاص

حجام سے سیکھا اخلاص

حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اخلاص ایک حجام سے سیکھا - وہ اس وقت مکہ معظمہ میں کسی رئیس شخص کے بال بنارہا تھا میرے مالی حالات نہایت شکستہ تھے میں نے حجام سے کہا
" میں اجرت کے طور پر تمھیں ایک پیسا نہیں دے سکتا بس تم الله کے لئے میرے بال بنا دو "
میری بات سنتے ہی اس حجام نے رئیس کو چھوڑ دیا اور مجھ سے مخاطب ہو کر بولا - تم بیٹھ جاؤ ! مکے کے رئیس نے حجام کے ط...رز عمل پر اعتراض کیا تو وہ معذرت کرتے ہوئے بولا -
" جب الله کا نام اور واسطہ درمیان میں آجاتا ہے ، تومیں پھر سارے کام چھوڑ دیتا ہوں "
حجام کا جواب سن کر مجھے بڑا تعجب ہوا اور پھر قریب آ کر اس نے میرے سر پر بوسہ دیا اور بال بنانے لگا اپنے کام سے فارغ ہو کے حجام نے مجھے ایک پڑیا دی جس میں کچھ رقم تھی -
" اسے بھی اپنے استمعال میں لائیے " حجام کے لہجے میں بڑا خلوص تھا - میں نے رقم قبول کر لی اور اس کے ساتھ نیت کی کہ مجھے جو پہلی آمدنی ہوگی وہ حجام کی نظر کروں گا - پھر چند روز بعد جب میرے پاس کچھ روپیہ آیا تو میں سیدھا اس حجام کے پاس پہنچا اور وہ رقم اسے پیش کر دی -
یہ کیا ہے ؟ حجام نے حیران ہو کر پوچھا میں نے اس کے سامنے پورا واقعہ بیان کر دیا میری نیت کا حال سن کر حجام کے چہرے پر ناگواری کا رنگابھر آیا -
" اے شخص ! تجھے شرم نہیں آتی ! تو نے الله کی راہ میں بال بنانے کو کہا تھا اور اب کہتا ہے کہ یہ اس کا معاوضہ ہے - تو نے کسی بھی مسلمان کو دیکھا ہے الله کی راہ میں کام کرے اور پھر اس کی مزدوری لے "
حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ اکثر فرماتے تھے ، میں نے اخلاص کا مفہوم ا اسی حجام سے سیکھا ہےS



Sunday, 19 May 2013

انسان کا سب کچھ اُس کے ماتھے پر رقم ہوتا ہے

انسان کا سب کچھ اُس کے ماتھے پر رقم ہوتا ہے۔ دِل و دماغ کی کیفیّات اُس کی آنکھوں سے جھلکتی ہیں، اُس کے باطن کے کچھ سراغ اُس کے سر سراپے سے بھی ہویدا ہوتے ہیں۔ 
بُھوک، پیاس، حِرص و ہَوس، طمع لالچ، غرض، عیّاری مکّاری، بہادری بُزدلی، اُس کا نَسب، اُس کی نسل، ذوق، ظرف، مقام، وزن، سب کچھ اُس کے ظاہری پیکر سے پسینے کی طرح نکلتے، ٹپکتے اور پُھوٹتے رہتے ہیں۔ 
بس دیکھنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کے لئے زندہ نگاہ اور دِل و دماغ کی ضرورت ہوتی ہے۔ غائب۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پردے، اوٹ اور وقت کے آگے پیچھےوہ ہے جسے مالکِ اَزل و ابد و حکمت و حق ہی بہتر جانتا ہے ۔ 
وہ جب چاہے، جتنا چاہے اور جسے چاہے عطا کردے، بے شک وہ عِلم و تدبّر کی نعمت اور بہترین رزق عطا کرنے والا ہے۔۔۔

پِیا رنگ کالا از بابا محمد یحیٰی خان
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...