Showing posts with label ****History***. Show all posts
Showing posts with label ****History***. Show all posts

Sunday, 28 July 2013

ﺍﻭﺭﻧﮓ ﺯﯾﺐ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮﺑﮍﺍ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻣﻐﻞ


ﺍﻭﺭﻧﮓ ﺯﯾﺐ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮﺑﮍﺍ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻣﻐﻞ
ﺷﮩﻨﺸﺎﮦ ﮔﺰﺭﺍ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﭘﺮ
ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً 50ﺳﺎﻝ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﯾﮏ
ﺩﻓﻌﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺮﺍﻧﯽ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﺍﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﮯ
ﻟﺌﮯ ﺁﯾﺎ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺳﻼﻧﮯ ﮐﺎ
ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﺍﺱ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﺟﻮ ﺍﺱ
ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﺑﮕﺎﮦ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻠﮏ ﺗﮭﺎ۔
ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻤﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ
ﺑﮩﺖ ﻣﻘﺮﺏ ﺣﺒﺸﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮔﺰﺍﺭ ﮈﯾﻮﭨﯽ ﭘﺮ
ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﺴﻦ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﺴﻦ ﮨﯽ ﮐﮩﺎ
ﮐﺮﺗﺎﺗﮭﺎ
ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﻧﺼﻒ ﺷﺐ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺏ...ﺍﺩﺷﺎﮦ
ﻧﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ’’ﺣﺴﻦ‘‘ !۔ ﻧﻮﮐﺮ ﻧﮯ ﻟﺒﯿﮏ ﮐﮩﺎ
ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻟﻮﭨﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﮐﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ
ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﮔﯿﺎ۔
ﺍﯾﺮﺍﻧﯽ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻦ ﮐﺮ
ﺑﯿﺪﺍﺭ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻧﻮﮐﺮ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ
ﮐﺎ ﻟﻮﭨﺎ ﻟﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ
ﺟﺎﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻧﻮﮐﺮ
ﻟﻮﭨﺎ ﺍﻧﺪﺭ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﮯ
ﮐﭽﮫ ﻓﮑﺮ ﻻﺣﻖ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺗﻮ
ﻧﻮﮐﺮ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﮐﺮ
ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﻟﻮﭨﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ



ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ؟
ﺻﺒﺢ ﮨﻮﺋﯽ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﻧﮯ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﺴﻦ
ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺭﺍﺕ ﻭﺍﻻ ﮐﯿﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮨﮯ؟
ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﺧﻄﺮﮦ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺩﻥ
ﻧﮑﻠﻨﮯ ﭘﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺍﺩﮮ ﮔﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺗﻢ
ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺣﮑﻢ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ
ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻟﻮﭨﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ
ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔
ﻧﻮﮐﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ’’:ﻋﺎﻟﯽ ﺟﺎﮦ !ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ
ﺣﻀﻮﺭﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ
ﺍﺳﻢ ﮔﺮﺍﻣﯽ ﺑﻐﯿﺮ ﻭﺿﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺘﮯ۔ ﺟﺐ
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﺴﻦ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﭘﮑﺎﺭﺍ ﺗﻮ
ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻭﺿﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﻭﺭﻧﮧ ﯾﮧ ﻣﺠﮭﮯ ’’ﻣﺤﻤﺪ ﺣﺴﻦ‘‘ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ
ﭘﮑﺎﺭﺗﮯ
ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﻟﻮﭨﺎ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ ﺗﺎﮐﮧ
ﻭﮦ ﻭﺿﻮﮐﺮﻟﯿﮟ۔

Saturday, 18 May 2013

سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ جب مسلمانوں کے پہلے حکمران مقرر ہوئے تو ان کے اخراجات کا سوال پیدا ہوا


سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ جب مسلمانوں کے پہلے حکمران مقرر ہوئے تو ان کے اخراجات کا سوال پیدا ہوا کیونکہ وہ اپنا کپڑے کا کاروبار اب بند کر چکے تھے -

امیرالمومنین نے اس کا آسان جواب دیا کہ تم لوگ مدینے کے ایک مزدور کی آمدنی کے برابر میری تنخواہ مقرر کر دو-

لوگوں نے اپنے اس بادشاہ سے کہا کہ مدینے کے مزدور کی آمدنی تو بہت کم ہوتی ہے جس میں آپ کے اخراجات پورے نہیں ہو سکیں گے -
...
اس کا آسان جواب تھا کہ میں پھر مدینے کے مزدور کی آمدنی اور تنخواہ اتنی بڑھا دوں گا جس کے برابر کی آمدنی سے میرے حکومتی اخراجات پورے ہو سکیں گے- یہ حیران کن جواب کوئی سچا مزدور رہنما ہی دے سکتا ہے ،کوئی شعبدہ باز اور فریبی حکمران نہیں دے سکتا-

چناچہ اس پر عملدرآمد ہوا اور ہوتا رہا- ان کے جانشین سیدنا عمر رضہ کہا کرتے تھے کہ ابو بکر صدیق نے تو آنے والوں کی زندگی آزمائش میں ڈال دی ہے -

خلافت راشدہ کے اس حیران کن دور کے اثرات چند برس بعد ایک بار پھر ظاہر ہوئے جب عمر بن عبدالعزیز نے یہ منصب سنبھال لیا-

ایک عید کے موقع پر بچیوں نے نئے کپڑوں کی فرمائش کی تو انہوں نے اپنی بیوی فاطمہ سے پوچھا کہ تمھارے پاس کچھ ہے -اس شہزادی نے دیا کہ کچھ بھی نہیں -

چناچہ وہ بچیوں کی خواہش سے مجبور ہو کر بیت المال کے افسر کے پاس گئے اور ایک مہینے کی تنخواہ کا ایڈوانس مانگا -

یہ افسر بھی عمر بن عبدلعزیز کا افسر تھا - اس نے کہا کہ آپ مجھے ضمانت دیں کہ اس قرض کی ادائیگی تک زندہ رہیں گے تو میں یہ ایڈوانس رقم دینے پر تیار ہوں-

امیرالمومنین کے پاس اپنے ملازم کے اس اعتراض کا جواب نہ تھا- وہ خاموش ہو کر واپس آگئے اور اپنی ان بیٹیوں کو پیار کے سوا کچھ نہ دے سکے- جن کے ماں باپ دونوں شاہی خاندان سے تھے.

(حیاۃ الصحابہ)
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...