Showing posts with label J==john Elia. Show all posts
Showing posts with label J==john Elia. Show all posts

Sunday, 21 July 2013

مر مٹا ہوں خیال پر اپنے،

Saturday, 25 May 2013

تم نے مجھ کو لکھا ہے، میرے خط جلا دیجے


تم نے مجھ کو لکھا ہے، میرے خط جلا دیجے
مجھ کو فکر رہتی ہے آپ انہیں گنوا دیجے
آپ کا کوئی ساتھی دیکھ لے تو کیا ہو گا
دیکھیے میں کہتی ہوں یہ بہت بُرا ہو گا

O

میں بھی کچھ کہوں تم سے اے مری فروزینہ
... زشکِ سروِ سیمینا
اے بہ نازُکی مینا
اے بہ جلوہ آئینہ
میں تمہارے ہر خط کو لوحِ دل سمجھتا ہوں
لوحِ دل جلا دوں کیا
سطر سطر ہے ان کی، کہکشاں خیالوں کی
کہکشاں لُٹا دوں کیا
جو بھی حرف ہے ان کا ، نقشِ جانِ شیریں ہے
نقشِ جاں مٹا دوں کیا
ان کا جو بھی نقطہ ہے، ہے سوادِ بینائی
میں انہیں گنوا دوں کیا
لوحِ دل جلا دوں کیا
کہکشاں لُٹا دوں کیا
نقشِ جاں مٹا دوں کیا

O

مجھ کو ایسے خط لکھ کر اپنی سوچ میں شاید
جرم کر گئی ہو تم
اور خیال آنے پر اس سے ڈر گئی ہو تم
جُرم کے تصور میں گر یہ خط لکھے تم نے
پھر تو میری رائے میں جُرم ہی کئے تم نے
!اے مری فروزینہ
!دل کی جانِ زرّینا
!رنگ رنگ رنگینا
بات جو ہے وہ کیا ہے
تم مجھے بتاؤ تو ۔۔۔۔۔
میں تمہیں نہیں سمجھا
تم سمجھ میں آؤ تو
جُرم کیوں کیے تم نے
خط ہی کیوں لکھے تم نے
----------------------------------------------------------
جون ایلیا

Tuesday, 21 May 2013

عمر گزرے گی امتحان میں کیا





عمر گزرے گی امتحان میں کیا
داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا

... مری ہر بات بے اثر ہی رہی
نَقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا

خود کو دنیا سے مختلف جانا
آگیا تھا مرے گمان میں کیا

ہے نسیمِ بہار گرد آلود
خاک اڑتی ہے اس مکان میں کیا

یوں جو تکتا ہے آسمان کو تُو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

Saturday, 18 May 2013

میں شاید تم کو یکسر بھولنے والا ہوں


میں شاید تم کو یکسر بھولنے والا ہوں
شاید، جانِ جاں شاید
کہ اب تم مجھ کو پہلے سے زیادہ یاد آتی ہو

ہے دل غمگیں، بہت غمگیں
... کہ اب تم یاد دل وارانہ آتی ہو

شمیم دور ماندہ ہو
بہت رنجیدہ ہو مجھ سے

مگر پھر بھی
مشامِ جاں میں میرے آشتی مندانہ آتی ہو
جدائی میں بلا کا التفاتِ محرمانہ ہے
قیامت کی خبر گیری ہے
بےحد ناز برداری کا عالم ہے

تمہارے رنگ مجھ میں اور گہرے ہوتے جاتے ہیں
میں ڈرتا ہوں
میرے احساس کے اس خواب کا انجام کیا ہوگا
یہ میرے اندرونِ ذات کے تاراج گر
جذبوں کے بیری وقت کی سازش نہ ہو کوئی

تمہارے اس طرح ہر لمحہ یاد آنے سے
دل سہما ہوا سا ہے
تو پھر تم کم ہی یاد آؤ

متاعِ دل، متاعِ جاں تو پھر تم کم ہی یاد آؤ
بہت کچھ بہہ گیا ہے سیلِ ماہ و سال میں اب تک
سبھی کچھ تو نہ بہہ جائے
کہ میرے پاس رہ بھی کیا گیا ہے
کچھ تو رہ جائے

(جون ایلیا کی کتاب شاید)
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...