Showing posts with label ****Jokes***. Show all posts
Showing posts with label ****Jokes***. Show all posts

Saturday, 27 July 2013

- میری امی کو تم بہت پسند آئے

‫لڑکی - میری امی کو تم بہت پسند آئے
لڑکا شرماتے ہوئے
 
لیکن میں شادی صرف تم ہی سے کروں گا خالہ سے بولو مجھے بھول جائے‬





Thursday, 13 June 2013

zaheen baccha


ایک عامل کا بڑا چرچہ تھا کہ وہ روحوں سے بات کروادیتے ہیں ۔ ایک بچہ جو اپنی ذہانت سے ہوشیاری کی وجہ سے محلے بھر میں مشہور تھا ان عامل کے پاس پہنچا اور نذرانہ پیش کرنے کے بعد کہا ۔

’’میں اپنے دادا کی روح سے بات کرنا چاہتا ہوں ‘‘۔

اسے ایک اندھیرے کمرے میں لے جایا گیا جہاں اگر بتیاں جل رہی تھیں ۔چند لمحوں کے بعد ایک بھاری آواز سنائی دی ۔

کیوں آئے ہو برخوردار؟

قریب سے عامل صاحب کے چیلے نے بچے کو ٹھوکا دیا یہ تمہارے دادا کی روح بول رہی ہے ۔ پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو ؟




دادا جان ! بچے نے سر کھجاتے ہوئے کہا ۔

’’مجھے آپ سے صرف یہ پوچھنا ہے کہ آپ کی روح یہاں کیا کررہی ہے ؟ جبکہ آپ کا تو بھی انتقال بھی نہیں ہوا‘‘

Thursday, 30 May 2013

مرغی

ایک بچہ روتا ہوا اسکول سے گھر آیا، ماں نے پوچھا:
بیٹا کیا ہوا؟ کیوں رو رہے ہو؟
بچہ: ٹیچر نے آج مارا مجھے۔
ماں: کیوں مارا اس چڑیل نے؟
بچہ: میں نے اسے مرغی بولا تھا۔
ماں: ارے لیکن تم نے اسے ایسا کیوں کہا؟؟؟
بچہ: تو اور کیا بولوں! ہر پیپر میں انڈا دی دیتی ہے۔۔

Wednesday, 29 May 2013

شادی کی 14ویں سالگرہ پر

شادی کی 14ویں سالگرہ پر امجد بھائی گہری سوچ میں مستغرق تھے۔

بیگم:کیا سوچ رہے ہو؟

امجد بھائی: یاد ہے جب تمھارے ابو نے ہمیں ڈیٹ پہ پکڑا تھااور کہا تھا یا میری بیٹی سے شادی کر لو،
یا پھر 14 سال کے لیئے جیل جاؤ۔

بیگم (مسکرا) کر:جی ہاں

عبداللہ بھائی:اگر میں صحیح فیصلہ کرتاتو آج آزاد ہو جاتا۔ 

ایک پارک میں ایک انگریز لیپ ٹاپ لے کر بیٹھا ہوا تھا

ایک پارک میں ایک انگریز لیپ ٹاپ لے کر بیٹھا ہوا تھا اور اس کے برابر میں ایک پاکستانی خالی ہاتھ بیٹھا ہوا تھا۔
انگریز نے کہا کہ ہم لوگ اتنی ترقی کر چکے ہیں، پوری دنیا ہماری نظروں کے سامنے ہے، تم لوگوں نے کیا کیا اب تک؟
پاکستانی نے کہا، بلند بلند دعوے مت کر۔
انگریز نے کہا میں ثابت کر سکتا ہوں۔
پاکستانی: تو ایسا کرتے ہیں کہ میں ایک سوال پوچھتا ہوں اگر وہ تمہیں نہ آیا تو تم مجھے 2 ہزار روپیہ دینا اور ...پھر تم مجھ سے سوال پوچھنا اگر وہ مجھے نہ آیا تو میں تمہیں 500 روپیہ دونگا۔
انگریز مان گیا۔
انگریز نے سوال کیا، بتاؤ زمین کے علاوہ کس سیارے پر زندگی کے امکانات ہیں؟
پاکستانی خاموش رہا اور 500 روپیہ دیدیئے۔
انگیز نے کہا وہ سیارہ مریخ ہے۔
اب پاکستانی نے سوال کیا: بتاؤ وہ کونسا جانور ہے جو پہاڑ پر جاتا ہے تو چار ٹانگیں ہوتی ہیں، واپس آتا ہے تو تین ٹانگیں ہوتی ہیں۔
انگریز نے کافی دیر سوچا، انٹر نیٹ پر سرچ کیا، جواب نہ دے سکا تو 2 ہزار روپیہ پاکستانی کو دیئے اور کہا: مجھے جواب نہیں معلوم۔
پاکستانی نے ان دو ہزار میں سے 500 کا نوٹ واپس انگریز کو دیا اور کہا: مجھے بھی نہیں معلوم :)

Thursday, 23 May 2013

باپ بیٹے سے: اگر تم میری طرح محنت کرو گے تو شاندار زندگی پاوٴ گے۔

باپ بیٹے سے: اگر تم میری طرح محنت کرو گے تو شاندار زندگی پاوٴ گے۔ مجھے دیکھو جب میں شہر میں آیا تو سوائے میرے پاس ایک صندوقچی کے کچھ نہ تھا۔ اب دیکھو میرے پاس گاڑی ہے کوٹھی ہے۔ کئی پلازے ہیں۔

بیٹے نے پوچھا: اس صندوقچی میں کیا تھا؟

۔

۔

۔

۔
باپ چار کروڑ روپے۔ :

شیخ چلی کا گھر

شیخ چلی کا گھر
______________

ایک لڑکے کا باپ مر گیا۔ وہ جنازے کے ساتھ پھوٹ پھوٹ کر روتا ہوا جارہا تھا۔ اپنے سر پر دو ہتڑ مارتا اور کہتا تھا۔ ’’ابا آخر تمہیں کہاں لیے جارہے ہیں۔ ایک تنگ و تاریک اور تکلیف دہ گھر میں ،جہاں غالیچہ اور فرش تو کیا بوریا بھی نہ ہوگا۔ نہ رات کو چراغ ہوگا نہ کھانے کے لیے کوئی چیز۔ وہ عجب گھر ہوگا جس کا نہ دروازہ ہے نہ چھت اور نہ ہی روشنی کے گزرنے کیلئے کوئی روشن دان۔ نہ ...وہاں کوئی پڑوسی ہوگا اور نہ ہی کوئی سہارا۔‘‘ غرض اسی طرح وہ لڑکا اس نئے گھر یعنی قبر کے اوصاف گناتا جاتا تھا اور زارو زار روتاجاتا تھا۔

شیخ چلی بھی اپنے باپ کے ہمراہ اس جنازے میں شریک تھے۔ اپنے باپ سے کہنے لگے۔ ’’بابا گھر کی نشانیاں تو دیکھو ساری کی ساری ہمارے گھر کی ہیں۔ ہمارے بھی نہ چٹائی ہے نہ دیا۔ نہ دروازہ ہے نہ چھت نہ کھڑکی اور نہ ہی کوٹھا

کیا یہ اس میت کو ہمارے گھر لے جارہے ہیں۔‘

Wednesday, 22 May 2013

بیوی: آپ نے جو گلاب کی قلم لگائی تھی،

بیوی: آپ نے جو گلاب کی قلم لگائی تھی، اس کی جڑ ابھی تک پیدا نہیں ہوئی۔
میاں: تمہیں کیسے معلوم؟
بیوی: میں روزانہ اس کو نکال کر دیکھتی ہوں۔

Monday, 20 May 2013

مریض: مجھے رات کو نیند نہیں آتی۔


Sunday, 19 May 2013

ایک ماں کسی ماہر نفسیات کے پاس پہنچی اور کہنے لگی۔

ایک ماں کسی ماہر نفسیات کے پاس پہنچی اور کہنے لگی۔ ”میں اپنے بیٹے کے ہاتھوں سخت پریشان ہوں وہ مٹی کے لڈو بنا بنا کر کھاتا رہتا ہے۔“
گھبرانے کی کوء بات نہیں“ ماہر نفسیات نے کہا ”بڑے ہو کر اس کی عادت چھوٹ جائے گی اسے برداشت کر لیجئے۔

۔

۔

۔

۔
...
۔
۔

۔

۔

۔
۔

ماں نے کہا۔ ”جناب! کوئی فوری علاج بتائیں ورنہ میرے بیٹے کی بیوی رو رو کر پاگل ہو جائے گی۔ P:

ایک عورت آدھی رات کو قبر پر بیٹھی تھی

ایک عورت آدھی رات کو قبر پر بیٹھی تھی 
اک مسافر نے اسے دیکھ اور پوچھا ڈر نہی لگتا ؟
عورت لو اس میں ڈرنے کی کیا بات ھے 
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
اندر گرمی تھی اس لئے باہر بیٹھی ہوں

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...