Showing posts with label F==Fakhira Batool. Show all posts
Showing posts with label F==Fakhira Batool. Show all posts

Saturday, 18 May 2013

انوکھی مات


انوکھی مات

سُنو جاناں

... محبت کے سفر میں ایسا بھی اِک
موڑ آئے گا

جدائی گھات میں ہو گی

تو آگے بڑھ کے اُس کے ہاتھ، اپنا
ہاتھ دے دینا

تم اُس کو مات دے دینا ۔


فاخرہ بتول

یاد کرنے کا ارادہ بھی نہیں


یاد کرنے کا ارادہ بھی نہیں
بھُول جاؤں تُجھے ایسا بھی نہیں

شہر کا شہر چلا آیا ھے کیوں
یہ مرا دل ھے تماشا بھی نہیں
...
یہ بھی سچ ھے کہ بتایا نہ گیا
حال اُس نے مرا پوچھا بھی نہیں

ھر کوئی زات میں گُم اپنی جگہ
دیکھنے میں کوئی تنہا بھی نہیں

حالِ دل سارا بیاں کر تو دیا
اُس نےخط کھول کے دیکھا بھی نہیں

ترے ہاتھوں کے نشاں اُس پہ ملے
تُو نے جس ہاتھ کو تھاما بھی نہیں

یہ بھی سچ ھے کوئی مجھ سا بھی کہاں
اور جہاں میں کوئی تجھ سا بھی نہیں

خود بخود کھنچتا تری اور ھے کیوں؟
دل پہ میرے ترا قبضہ بھی نہیں

اب نہ اظہار، نہ تکرار، نہ دل
کیا محبٌت ھے تقاضا بھی نہیں

آئینہ دیکھ کے حیرت سی ھے کیوں
سامنے تو مرا چہرہ بھی نہیں

آج ھم ٹُوٹ کے ملتے ھیں بتول !
زندگی کا تو بھروسہ بھی نہیں

(فاخرہ بتول)

Friday, 17 May 2013

بُت کدے جا کے کسی بت کو بھی سجدہ کرتے


بُت کدے جا کے کسی بت کو بھی سجدہ کرتے
ہم کہاں سوچ بھی سکتے تھے کے ایسا کرتے

عمر بھر کچھ بھی تو اپنے لیے ہم نے کیا!
آج فرصت جو ملی ہم کو تو سوچا، کرتے
...
ہم تو اس کھیل کا حصہ تھے ازل سے شاید
سو تماشہ جو نہ بنتے تو تماشہ کرتے

دل کو تسکین ہی مل جاتی ذرا سی اس سے
نہ نبھاتے چلو تم کوئی تو وعدہ کرتے

جوڑنے میں تو یہ پوریں بھی لہو کر ڈالیں
کرچیوں کو جو نہ چھوتے تو یہ اچھا کرتے

بھول جانے کا ارادہ بھی ارادہ ہی رہا
جان پر بن ہی تو جاتی جو ہم ایسا کرتے

اس اماوس نے کیے قتل کئی چاند بتول
ہم اُجالے کی کہاں اِس سے تمنا کرتے،،،!!!


٭٭ فاخرہ بتول 
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...