Showing posts with label A==Akhtar Sheerani. Show all posts
Showing posts with label A==Akhtar Sheerani. Show all posts

Wednesday, 22 May 2013

او دیس سے آنے والے بتا کس حال میں ہیں یارانِ وطن؟



او دیس سے آنے والے بتا کس حال میں ہیں یارانِ وطن؟
آوارۂ غربت کو بھی سنا کس رنگ میں ہیں کنعانِ وطن
وہ باغِ وطن، فردوسِ وطن، وہ سرو ِوطن، ریحانِ وطن
او دیس سے آنے والے بتا!۔

... کیا اب بھی وطن میں ویسے ہی سرمست نظارے ہوتے ہیں
کیا اب بھی سہانی راتوں کو وہ چاند ستارے ہوتے ہیں
ہم کھیل جو کھیلا کرتے تھے، کیا اب بھی وہ سارے ہوتے ہیں
او دیس سے آنے والے بتا!۔

کیا ہم کو وہاں کے باغوں کی مستاتہ فضائیں بھول گئیں؟
برکھا کی بہاریں بھول گئیں، ساون کی گھٹائیں بھول گئیں؟
دریا کے کنارے بھول گئے، جنگل کی ہوائیں بھول گئیں

کیا گاؤں میں اب بھی ویسی ہی، مستی بھری راتیں آتی ہیں؟
دیہات کی کمسن ماہ وشیں، تالاب کی جانب جاتی ہیں
اور چاند کی سادہ روشنی میں رنگیں ترانے گاتی ہیں

کیا گاؤں پہ اب بھی ساون میں برکھا کی بہاریں آتی ہیں؟
معصوم گھروں سے بُھوربَہِی چکّی کی صدائیں آتی ہیں؟
اور یاد میں اپنے میکے کی بچھڑی ہوئی سکھیاں گاتی ہیں؟

کیا اب بھی پرانے کھنڈروں پر تاریخ کی عبرت طاری ہے؟
انپُرن کے اجڑے مندر پر مایوسی و حسرت طاری ہے؟
سنسان گھروں پر چھاؤنی کی ویرانی و رِقّت طاری ہے؟

او دیس سے آنے والے بتا!۔
شاداب شگفتہ پھولوں سے معمور ہیں گلزرا اب، کہ نہیں؟
بازار میں مالن لاتی ہے، پھولوں کے گندھے ہار اب، کہ نہیں؟
اور شوق سے ٹوٹے پڑتے ہیں، نوعمر خریدار، اب، کہ نہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!۔

کیا اب بھی وہاں ویسی ہی جواں اور مدھ بھری راتیں ہوتی ہیں؟
کیا رات بھر اب بھی گیتوں کی اور پیار کی باتیں ہوتی ہیں؟
وہ حسن کے جادو چلتے ہیں وہ عشق کی گھاتیں ہوتی ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!۔

کیا اب بھی وہاں کے پنگھٹ پر پِنہاریاں پانی بھرتی ہیں؟
آنگڑائی کا نقشہ بن بن کر، سب ماتھے پہ گاگر دھرتی ہیں؟
اور اپنے گھر کو جاتے ہوئے، ہنستی ہوئی چہلیں کرتیں ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!۔

کیا اب بھی پہاڑی گھاٹیوں میں، گھنگھور گھٹائیں گونجتی ہیں؟
ساحل کے گھنیرے پیڑوں میں، برکھا کی صدائیں گونجتی ہیں؟
جھینگر کے ترانے جاگتے ہیں، موروں کی صدائیں گونجتی ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!۔

کیا اب بھی وہاں میلوں میں وہی برسات کا جوبن ہوتا ہے؟
پھیلے ہوئے بڑ کی شاخوں میں، جھولوں کا نشیمن ہوتا ہے؟
امڈے ہوئے بادل ہوتے ہیں، چھایا ہوا ساون ہوتا ہے؟
او دیس سے آنے والے بتا!۔

کیا اب بھی وہان برسات کے دن، باغوں میں بہاریں آتی ہیں؟
معصوم و حسیں دوشیزائیں، برکھا کے ترانے گاتی ہیں؟
اور تیتریوں کی طرح سے رنگيں جھولوں پر لہراتی ہيں؟
او دیس سے آنے والے بتا!۔

کیا پہلے سی ہے معصوم ابھی، وہ مدرسے کی شاداب فضا؟
کچھ بھولے ہوئے دن گزرے ہیں جس میں وہ مثالِ خواب فضا؟
وہ کھیل، وہ ہمسن، وہ میداں، وہ خواب گہِ مَہتاب فضا؟
او دیس سے آنے والے بتا!۔

کیا اب بھی کسی کے سینے میں باقی ہے ہماری چاہ بتا؟
کیا یاد ہمیں بھی کرتا ہے اب یاروں میں کوئی، آہ! بتا؟
او دیس سے آنے والے بتا، للّہ بتا للّہ بتا
او دیس سے آنے والے بتا!۔

کیا اب بھی فجر دم چرواہے، ریوڑ کو چرانے جاتے ہیں؟
اور شام کو دھندلے سایوں کے ہمراہ گھروں کو آتے ہیں؟
اور اپنی رسیلی بانسریوں میں عشق کے نغمے گاتے ہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!۔

آخر میں یہ حسرت ہے کہ بتا، وہ غارتِ ایماں کیسی ہے؟
بچپن میں جو آفت ڈھاتی تھی وہ آفتِ دوراں کیسی ہے؟
ہم دونوں تھے جس کے پروانے وہ شمعِ شبستاں کیسی ہے؟
او دیس سے آنے والے بتا!۔

مرجاناں تھا جس کا نام بتا، وہ غنچۂ دہن کس حال میں ہے؟
جس پر تھے فدا طفلانِ وطن، وہ جانِ وطن کس حال میں ہے؟
وہ سروِ چمن، وہ رشکِ وطن، وہ سیم بدن کس حال میں ہے؟
او دیس سے آنے والے بتا!۔

اب نامِ خدا ہوگی وہ جواں، میکے میں ہے یا سُسرال گئی؟
دوشیزہ ہے یا آفت میں اسےکمبخت جوانی ڈال گئی؟
گھر پر ہی رہی یا گھر سے گئی، خوشحال رہی، خوشحال گئی؟
او دیس سے آنے والے بتا!۔

کیا اب بھی ہمارے گاؤں میں، گھنگرو ہیں ہوا کے پاؤں میں؟
کیا آگ لگی ہے چھاؤں میں، موسم کا اشارہ کیسا ہے؟
اے دیس سے آنے والے بتا، وہ دیس ہمارا کیسا ہے؟


اختر شیرانی

Tuesday, 21 May 2013

اے عشق ہمیں برباد نہ کر


اے عشق ہمیں برباد نہ کر

اے عشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں، ہم بھولے ہوؤں کو یاد نہ کر
پہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم، تُو اور ہمیں ناشاد نہ کر
... قسمت کا ستم ہی کم نہیں کچھ، یہ تازہ ستم ایجاد نہ کر
یوں ظلم نہ کر، بیداد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

جس دن سے ملے ہیں دونوں کا، سب چین گیا، آرام گیا
چہروں سے بہارِ صبح گئی، آنکھوں سے فروغِ شام گیا
ہاتھوں سے خوشی کا جام چُھٹا، ہونٹوں سے ہنسی کا نام گیا
غمگیں نہ بنا، ناشاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتے ہیں، رو رو کے دعائیں کر تے ہیں
آنکھوں میں تصور، دل میں خلش، سر دُھنتے ہیں آہیں بھرتے ہیں
اے عشق، یہ کیسا روگ لگا، جیتے ہیں نہ ظالم مرتے ہیں
یہ ظلم تو اے جلاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

یہ روگ لگا ہے جب سے ہمیں، رنجیدہ ہوں میں بیمار ہے وہ
ہر وقت تپش، ہر وقت خلِش، بے خواب ہوں میں، بیدار ہے وہ
جینے سے ادھر بیزار ہوں میں، مرنے پہ اُدھر تیار ہے وہ
اور ضبط کہے فریاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
جس دن سے بندھا ہے دھیان ترا، گھبرائے ہوئے سے رہتے ہیں
ہر وقت تصور کر کر کے شرمائے ہوئے سے رہتے ہیں
کمہلائے ہوئے پھولوں کی طرح کمہلائے ہوئے سے رہتے ہیں
پامال نہ کر، برباد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

بے درد، ذرا انصاف تو کر، اس عمر میں اور مغموم ہے وہ
پھولوں کی طرح نازک ہے ابھی، تاروں کی طرح معصوم ہے وہ
یہ حسن، ستم، یہ رنج، غضب، مجبور ہوں میں، مظلوم ہے وہ
مظلوم پہ یوں بیداد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

اے عشق خدارا دیکھ کہیں، وہ شوخ حزیں بدنام نہ ہو
وہ ماہ لقا بدنام نہ ہو، وہ زہرہ جبیں بدنام نہ ہو
ناموس کا اس کے پاس رہے، وہ پردہ نشیں بدنام نہ ہو
اس پردہ نشیں کو یاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

امید کی جھوٹی جنت کے، رہ رہ کے نہ دِکھلا خواب ہمیں
آئندہ کی فرضی عشرت کے، وعدوں سے نہ کر بے تاب ہمیں
کہتا ہے زمانہ جس کو خوشی، آتی ہے نظر کمیاب ہمیں
چھوڑ ایسی خوشی کو یاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

کیا سمجھے تھےاور تو کیا نکلا، یہ سوچ کے ہی حیران ہیں ہم
ہے پہلے پہل کا تجربہ اور کم عمر ہیں ہم، انجان ہیں ہم
اے عشق، خدارا رحم و کرم، معصوم ہیں ہم، نادان ہیں ہم
نادان ہیں ہم، ناشاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

وہ راز ہے یہ غم آہ جسے، پا جائے کوئی تو خیر نہیں
آنکھوں سےجب آنسو بہتے ہیں، آ جائے کوئی تو خیر نہیں
ظالم ہے یہ دنیا، دل کو یہاں، بھا جائے کوئی تو خیر نہیں
ہے ظلم مگر فریاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

دو دن ہی میں عہدِ طفلی کے، معصوم زمانے بُھول گئے
آنکھوں سےوہ خوشیاں مِٹ سی گئیں، لب کو وہ ترانے بُھول گئے
ان پاک بہشتی خوابوں کے، دلچسپ فسانے بُھول گئے
ان خوابوں سے یوں آزاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

اس جانِ حیا کا بس نہیں کچھ، بے بس ہے پرائے، بس میں ہے
بے درد دلوں کو کیا ہے خبر، جو پیار یہاں آپس میں ہے
ہے بے بسی زہر اور پیار ہے رس، یہ زہر چھپا اس رس میں ہے
کہتی ہے حیا فریاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

آنکھوں کو یہ کیا آزار ہوا، ہر جذبِ نہاں پر رو دینا
آہنگِ طرب پر جُھک جانا، آواز فغاں پر رو دینا
بربط کی صدا پر رو دینا، مُطرب کے بیاں پر رو دینا
احساس کو غم بنیاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

ہر دم ابدی راحت کا سماں دِکھلا کے ہمیں دلگیر نہ کر
للہ، حبابِ آبِ رواں پر نقش بقا تحریر نہ کر
مایوسی کے رمتے بادل پر امید کے گھر تعمیر نہ کر
تعمیر نہ کر، آباد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

جی چاہتا ہے اِک دوسرے کو یوں آٹھ پہر ہم یاد کریں
آنکھوں میں بسائیں خوابوں کو اور دل میں خیال آباد کریں
خِلوت میں بھی ہوجلوت کا سماں، وحدت کو دوئی سےشاد کریں
یہ آرزوئیں ایجاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر

دنیا کا تماشا دیکھ لیا، غمگین سی ہے، بے تاب سی ہے
امید یہاں اِک وہم سی ہے، تسکین یہاں اِک خواب سی ہے
دنیا میں خوشی کا نام نہیں، دنیا میں خوشی نایاب سی ہے
دنیا میں خوشی کو یاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!!

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...